ہوناور، 15؍ جولائی (ایس او نیوز) ہوناور کاسرکوڈ کے ٹونکا ساحل پر تعمیر ہورہی تجارتی بندرگاہ کے تعلق سے تنازعہ پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ اس علاقے میں کسی جگہ کچھووں کی افزائش کا ٹھکانہ ہونے کے تعلق سے سروے کروائے۔
ٹونکا تجارتی بندرگاہ تعمیر کرنے کے خلاف ماہی گیروں کی طرف سے ہائی کورٹ میں جو مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) داخل کی گئی ہے اس میں ایک نکتہ یہ اٹھایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ جہاں لاگو کیا جارہا ہے وہاں پر سمندری کچھووں کی افزائش اور آبادی کے ٹھکانے پائے جاتے ہیں جو تعمیراتی کام سے تباہ ہوجائیں گے اور اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔
ہائی کورٹ میں اس پی آئی ایل پر سماعت کر رہی چیف جسٹس ابھئے شرینواس اوکا کی ڈیویژن بینچ نے 'کچھووں کی افزائش اور آبادی پر سنگین اثرات' ہونے کی بات کو سنجیدگی سے لیا اور ریاستی حکومت کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی بندرگاہ کے مجوزہ 45 ہیکٹر علاقے میں سے کسی بھی مقام پر کچھووں کی افزائش کا ٹھکانہ ہونے یا نہ ہونے کے تعلق سے چینئی میں واقع نیشنل سینٹر فار سسٹنٹیبل کوسٹل منیجمنٹ (این سی ایس سی ایم ) کے ذریعے سروے کروائے ۔
عدالت نے اس منصوبہ کو محکمہ ماحولیات کی طرف سے 2012 میں دی گئی اجازت کا جائزہ لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اس کے لئے متعینہ مدت ختم ہوگئی ہے ۔ پی آئی ایل میں جو دیگر سوالات اٹھائے گئے ہیں ان کا معائنہ کرنے کے بعد ضلع ڈپٹی کمشنر کو ہدایات جاری کیں کہ وہ ریوینیو ڈپارٹمنٹ کا تعاون لیتے ہوئے اور متعلقہ افراد کو اطلاع دے کر اس منصوبہ کے مقام پر جائیں اور دیکھیں کہ منصوبے کی مقررہ جگہ اور احاطہ میں کسی قسم کی تبدیلی تو نہیں کی گئی ہے ۔ اور اس سلسلے میں دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کریں ۔